پرانے قبرستان میں مسجد بنانا
سوال
(۱) ایسے مقبروں میں جہاں قبروں کے نشانات نہ معلوم ہوتے ہوں مسجد بنانا جائز ہے یا نہیں؟ مدل بحوالہ کتب تحریر فرماویں؟ (۲) ایک زمین ہے جہاں نہ قبروں کے نشانات ہیں اور نہ موجودہ لوگوں میں سے کسی کو معلوم ہے کہ یہ کسی زمانہ میں مقبرہ تھا لیکن مشتبہ ضرور ہے کہ شاید مقبرہ رہا ہو کیونکہ اس کے کچھ فاصلہ پر مقبرہ یقیناً تھا لیکن وہاں بھی اب مقبروں کے نشانات معلوم نہیں ہوتے تو کیا اس زمین مذکورہ میں مسجد بنانا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
اگر قبروں میں میت باقی نہیں بلکہ مٹی بن چکی ہے تو اب احکام بدل گئے وہاں زراعت کرنا تعمیر کرنا سب کچھ درست ہے ”جاز زرعه (اى القبر) والبناء عليه اذابلى وصار الميت تراباًاھ“ زیلعی ہے جب قبرستان غیر آباد ہو جائے اور وہاں دفن ہونا موقوف ہو جائے تو مسجد بنانا شرعاً درست ہے، ”قال ابن قاسم لوان مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجداً لم اربذلك بأساً وذلك لان المقابر وقف من…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔