الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قربانی کو شرط پر معلق کرنا

سوال

اگر کوئی یوں کہے کہ اگر یہ گائے گابھن ہو تو رکھوں گا ورنہ قربانی کروں گا، فی الحال گائے گابھن نہیں ہوئی، اس وقت گائے کو فروخت کر کے اس کے روپیہ سے دوسری گائے یا بیل لیکر قربانی کر سکتے ہیں، یا نہیں؟ بیچ سکتے ہیں یا نہیں، نیز یہ نذر بھی صحیح ہے یا نہیں اور شخص مذکور توانگر ہے؟

جواب

الفاظ مذکورہ فی السوال میں دو احتمال ہیں ایک اپنے نفس سے وعدہ دوسرے نذر، اگر نذر کی نیت نہیں کی ہے، بلکہ وعدہ کی نیت ہے، تب تو نذر ہے نہیں، محض وعدہ ہے جس کا پورا کرنا فرض نہیں، اگر اس کی مصالح کا تقاضہ ہو تو فروخت کرنا جائز ہے، اس کے عوض دوسری گائے وغیرہ کی قربانی کر دے، ”ہکذا یفہم مما ذکر فی البدائع ج۵/ص۸۴۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو