قربانی کی نذر کی تفصیل
سوال
ہماری شریعت مصطفویہ کے مفتیان عظام سے استفتاء یہ ہے کہ شاہ منذورہ یا بقرہ سال برس میں قربانی کے لائق ضرور ہوگی یا نہیں؟ اگر ہو تو اسامی کتب و متعین صفحہ سے بنقل عبارات جواب شافی عنایت فرما کر ممنون فرمائیں؟
جواب
شاۃ منذورہ کی صورت اگر صورت اضحیہ کی ہے یعنی اس طرح نذر کی ہے ”للہ علی ان اضحى شاة“ تو اس میں تمام شرائط اضحیہ کا پایا جانا ضروری ہے، کیونکہ ایسی نذر میں تضحیۂ شاۃ اس کے ذمہ واجب ہے، ایام نحر میں ایسی شاۃ کی قربانی کرے، جس کی اضحیہ شرعاً درست ہے، اگر بصورت ہدی نذر کی ہے تو اس کو حرم میں قربانی کرائے، اگر ہدی اور اضحیہ کے طور پر نذر نہیں کی، بلکہ مطلقاً شاۃ کو تصدق کرنے یا ذبح…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔