خانہ کعبہ کے غلاف کا رنگ
سوال
- احقر نے کئی بار محسوس کیا کہ مجھے یہ ہدایت ہو رہی ہے کہ جب تو یہ جانتا ہے کہ نور خداوندی سفید اور نور محمدی کا رنگ سبز ہے، تو علماء حق کو غلاف خانہ کعبہ کے سیاہ رنگ کی طرف کیوں توجہ نہیں، کیونکہ حضور مقبول ﷺ نے جن رنگوں کا غلاف خانہ کعبہ پر چڑھایا وہ سرخ، سفید یا سبز رنگ کے تھے، نیز یہ بات بھی احقر کے دل میں ہے کہ یہ رنگ تصوف میں عیسائیوں سے منسوب کیا جاتا ہے، سیاہ رنگ کا استعمال غلاف کعبہ پر اول کس نے دیا، یہ تو احقر کو معلوم نہیں، امید کہ جناب اس بارے میں اپنی گراں قدر رائے اور احادیث کی روشنی میں حوالوں سے…
جواب
بیت اللہ شریف کا غلاف مامون الرشید نے دیباج ابیض کا سب سے پہلے ڈالا، دیر تک یہ سلسلہ رہا، پھر محمد بن سبکتگین نے دیباج اصفر کا ڈالا، پھر ناصر عباسی نے دیباج اخضر کا ڈالا، پھر اسی نے دیباج اسود کا ڈالا، جو اب تک جاری ہے، عباسیوں کا درباری لباس اور خصوصی شعار بھی سیاہ تھا، وہ اسکو عزت و عظمت کا لباس تصور کرتے تھے، حضرت نبی اکرم ﷺ کا اسود عمامہ احادیث میں مذکور ہے، غالباً اسی وجہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔