حیات خضر علیہ السلام کی تحقیق
سوال
حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے پہلی تقریر میں فرمایا ہے جو کتاب کی صورت میں ہے: لذت سے نہیں خا لی جا نو ں کا کھپا جا نا کب خضر و مسیحا نے مرنے کا مزا جانا میر مزے جو موت کے عاشق بیان کبھی کرتے مسیح و خضر بھی مرنے کی آرزو کرتے ذوق تجھے کیا بتائیں اے ہم نشیں مجھے موت میں جو مزہ ملا نہ ملا مسیح و خضر کو وہ نشاط عمر دراز میں اقبال کلام شاعر تو کوئی سند نہیں لیکن حضرت مولانا کا تمثیلاً پیش کرنا ہی قابل رد نہیں، (مولانا کی نظر میں بھی حضرت عیسی ال کی مثل حضرت خضر ابھی حیات ہیں)
جواب
محدثین کرام عموماً حضرت خضر العلم کی حیات کے قائل نہیں، صوفیائے عظام قائل ہیں، ان کے حالات پر حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں مفصل کلام کیا ہے، اکابر کی اکثریت اس پر ہے کہ وہ پیغمبر نہیں تھے اب ان کے متعلق بحث علمی تحقیق کے درجہ میں ہے اور بس، شعراء بکثرت خضر بول کر طویل الحیات مراد لیتے ہیں، جیسے حاتم بول کر سخی، رستم بول کر پہلوان مراد لیتے ہیں، خاص…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔