مغرور اور ضدی عورت کو طلاق
سوال
تقریباً دو ماہ کا عرصہ ہوا میری بیوی اپنے سگے چچا کے ساتھ میری بغیر مرضی کے اپنے میکہ چلی گئی جہاں پر اس کو اپنے خالہ زاد بھائی کی شادی میں شرکت کرنی تھی، چلتے وقت اس سے میں نے یہ کہا تھا دیکھو تم میری بغیر اجازت کے اپنے گھر جارہی ہو، تمہارا یہ فعل شریعت کے خلاف ہے، لیکن پھر بھی شوہر ہونے کے ناطہ میں تم کو یہ سمجھائے دیتا ہوں کہ جہاں پر تم جا رہی ہو وہ ایک شادی کا گھر ہے، ہنگامہ شادی میں بے پردگی اور بے حیائی کا زیادہ دور دورہ رہتا ہے، بے حیائی اور بے پردگی سے پرہیز رکھنا اور میں تم کو اس بات کی سخت تاکید کرتا ہوں…
جواب
آپ نے لکھا ہے کہ وہ مغرور اور ضدی لڑکی ہے، مگر آپ کے منع کرنے پر اس نے پختہ وعدہ کیا اور سخت قسم بھی کھائی، اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ فرمانبردار ہے،مغرور اور ضدی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ فرمانبردار نہیں، ہو سکتا ہے کہ قسم بھول گئی ہو، آپ اس کو نرمی سے بار بار نصیحت کرتے رہیں امید ہے کہ اصلاح ہو جائے گی، اور آپ کا گھر آباد رہے گا، طلاق دینے اور تعلق ختم کر دینے کی صورت میں…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔