بیر معین
سوال
بخدمت اقدس استاذی المکرم حضرت قاری صاحب دامت برکاتهم السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ایک مسجد سے متعلق ایک بڑا کنواں ہے جس سے محلہ کے لوگ بھی پانی بھرتے ہیں دہ دردہ کنواں کے نام سے مشہور ہے لیکن قطر اس کا ۱۰½ ہاتھ ہے پانی اس میں اتنا ہے کہ سب پانی نکالنے میں کم و بیش سو روپیہ مصارف پڑتے ہیں جس کیلئے نہ تو اس زمانہ میں چندہ آسان اور نہ بیل وغیرہ ملنے میں آسانی بایں وجوہ جب ناپاک ہو جاتا ہے تو سالوں نا پاک پڑا رہتا ہے چنانچہ اس بار بھی تقریباً تین چار سال سے ناپاک پڑا ہوا ہے، دریافت طلب یہ امر ہے کہ ایسے مواقع میں…
جواب
(۱) اصل تو یہی ہے لیکن رفع حرج کے لئے تیسیراً دوسری صورت بھی ہے كما سيجي (۲) بعض نے اس کو مفتی بہ کہا ہے بعض نے تضعیف کی ہے۔ (۴) صحیح ہے، ایسے موقعہ پر ایسے فتوی کی گنجائش ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔