غسل جنابت میں تا خیر کرنا اور کھانا پینا
سوال
ہمارے یہاں کے امام صاحب نے فجر کے وقت غسل جنابت نہیں کیا اور فجر کی نماز قضا کی اور ظہر میں غسل کر کے نماز پڑھی، اس درمیان میں حقہ اور روٹی وغیرہ کھاتے پیتے رہے تو صحیح ہے یا غلط؟ جب کہ ان کو اس حرکت پر ٹوکا گیا۔
جواب
نماز فجر کا قضا کر دینا اور ظہر تک بلا عذر شرعی کے مؤخر کر دینا کبیرہ گناہ ہے۔ لیکن بلا غسل کے جو کچھ کھایا پیا وہ حرام نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔