ابطال شفعہ کے حیلہ پر بخاری کا اعتراض
سوال
عرض یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے بخاری شریف جلد ثانی، ص ۱۰۳۲ / کتاب الحیل میں امام اعظمؒ پر اعتراض کرتے ہوئے، حسب عادت قال بعض الناس کہنے کے بعد یہ لکھا ہے، ”ان اشترى نصيب دار فارادان يبطل الشفعة وهب لابنه الصغير ولايكون عليه يمين ص ۱۰۳۲ / ج ۲ / بخاری شریف“۔ لیکن صورت مسئولہ سمجھ میں نہیں آرہی ہے، کیونکہ اعتراض حق بجانب ہوسکتا ہے، امام بخاریؒ کی جلالت شان بالخصوص نقل روایت کے باب کو دیکھتے ہوئے یہ بعید معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یونہی بلا وجہ یہ حیلہ منسوب کر دیا ہوگا، جیسا کہ علامہ عینیؒ کا خیال ہے، علاوہ ازیں علامہ…
جواب
ارکان عقد متحقق ہو جانے کے بعد عقد منعقد ہو جاتا ہے، منعقد ہونے کے باوجود نظر شرع میں اس کا مستحسن ہونا ضروری ہے، لفظ حیلہ اردو میں بہت بدنام ہے، اس کی جگہ تدبیر کا لفظ انسب ہے، اضرار غیر کے لئے تدبیر کی اجازت نہیں، دفع ضرر کے لئے تدبیر کی اجازت ہے، اگر چہ اس کے ضمن میں دوسرے کا کچھ ضرر بھی ہو جائے، مبسوط ص ۱۳۱ / ج ۱۴ میں ہے ”والاشتغال بهذا الحيل لابطال حق الشفيع لابأس به اما…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔