الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جن نمازوں کے بعد نوافل نہیں امام کسطرف منہ کر کے بیٹھے

سوال

جن نمازوں کے بعد سنت مؤکدہ نہیں ہیں ان نمازوں میں امام کس طرف متوجہ ہو داہنی طرف یا بائیں طرف یا مقتدیوں کی طرف زید کہتا ہے کہ داہنی طرف متوجہ ہو، عمر کہتا ہے کہ مقتدیوں کی طرف متوجہ ہو ! ان میں سے کونسا قول صحیح ہے اور کس قول پر فتویٰ ہے؟

جواب

تینوں طرح درست ہے کسی ایک کا التزام درست نہیں، داہنی جانب متوجہ ہونا کہ قبلہ بائیں جانب ہو جائے اولیٰ ہے، وعقب الفرض ان لم يكن بعده نافلة يستقبل الناس إن شاء ان لم يكن في مقابلته مصل كما في الصحيحين . كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلّم إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَإِنْ شَاء الامام انحرف عَنْ يَمِينِهِ وَجَعَلَ القِبْلَة عَنْ يَسَارِهِ وَهَذا اولى لما في مسلم،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو