کسی عذر کی وجہ سے نماز کو مؤخر کرنا
سوال
مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں علماء دین کیا فرماتے ہیں۔ (۱) کسی عذر کی وجہ سے نماز اپنے وقت سے مؤخر کی جاسکتی ہے، اگر کی جاسکتی ہے تو عذر کس انتہاء کو پہنچا ہوا ہو کہ اس کو عذر کہا جائے؟ (الف) ایک شخص ریل میں ہے” تھرڈ کلاس میں سفر کر رہا ہے، اور بھیڑ اتنی شدید ہے کہ عادۃً و عرفاً اپنی جگہ سے جنبش نہیں کر سکتا، ایسی حالت میں وہ نماز مؤخر کر سکتا ہے؟ (ب)
جواب
(۱) وقت مستحب سے مؤخر کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں، بشرطیکہ مکر وہ وقت تک تا خیر نہ ہوالہ سفر میں پانی نہ ہو تو تمیم اسکا بدل ہے، لیکن پانی ملنے کی توقع ہو تو مؤخر کرنا چاہئے۔ (الف) مؤخر کر کے قضا نہ کر دے، انتہائی کوشش کے بعد جگہ نہ ملے تو اشارہ سے نماز پڑھ لے، پھر جگہ ملنے پر اعادہ کر لے۔ (ب) معمولی فرق ہو (شمال و جنوب کا فرق نہ ہو) تو گنجائش ہے۔ (ج)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔