کیا قرآن کریم حفظ کرنا مفید نہیں مضر ہے؟
سوال
بکر کہتا ہے کہ کل کلام پاک کا حفظ کرنا (نعوذ باللہ) ایسا ہے کہ جیسے گندی نالی میں عطر کا چھڑکنا کہ بعد حفظ نہ کلام پاک کا احترام کیا جاتا ہے نہ یاد رکھا جاتا ہے جس کی ذمہ داری استاذ پر ہے۔ ممکن ہے کہ قیامت میں استاذ کی پکڑ ہو؟ عمر کہتا ہے کہ ایسے پُرفتن زمانہ میں مسلمانوں کو کلام پاک کا حفظ کرنا انتہائی ضروری ہے تا کہ بچے دین سے واقف رہیں اور کلام پاک کا بھلا دینا یہ ان کا فعل ہے استاذ پر کوئی ذمہ داری نہیں۔ اور وہ اساتذہ اجر عظیم کے مستحق ہوں گے۔ کس کا قول صحیح ہے؟
جواب
عمر کا قول درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔