دنیوی غرض کے لئے بھی ذکر و تلاوت پر اجر ہے
سوال
بعض اوراد ن کے فضائل احادیث سے ثابت ہیں مثلاً قرآن شریف علی الاطلاق اور اس کی بعض سورت و آیات بالخصوص۔ يَا سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الخ لَا إِلهُ إِلَّا اللهُ وَحَدَهُ وغیرہ وغیرہ جن کے فضائل منصوص ہیں، اس قسم کے اوراد اگر ایسی ترکیب سے پڑھے جائیں جو مشائخ نے بیان فرمائی ہیں یا جو عالموں نے بتلائی ہیں یا خاص اس کمیت اور کیفیت سے پڑھی جائیں جو کمیت اور کیفیت ان کی احادیث سے ثابت ہے مگر ان کے پڑھنے سے کسی دنیوی غرض کا پورا کرنا ہے مثلاً یہ کہ رزق میں فراخی ہو جائے…
جواب
جو خواص و فوائد آیات و سور و اذکار کے منصوص ہیں ان کے لئے پڑھنے سے ثواب میں کمی نہیں آئے گی کیونکہ جس نے ثواب بتایا ہے اسی نے خواص و فوائد بتائے ہیں اور ان خواص وفوائد کے لئے پڑھنے کی تعلیم دی ہے، اور ثواب کو مشروط نہیں کیا خواص و فوائد کی نیت نہ ہونے کے ساتھ۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔