قرآن کریم کی ہر سطر پر انگلی پھیرنا اور بسم اللہ پڑھنا
سوال
قرآن کریم کی ہر سطر پر انگلی پھیرنا اور ہر سطر پر محض بسم اللہ پڑھنا کیسا ہے؟ تبرکاً و تیمنا اور عدم علم قرآن کی وجہ سے ہر دو کا کیا حکم ہے؟ (۲) اس طریقہ کو ختم قرآن سے تعبیر کرنا کیسا ہے؟ (۳) اگر وظیفہ کے لئے ایسا عمل کیا جائے تو جائز ہوگا یا نہیں؟ (۴) اگر جائز ہے تو محض امر دینی ومقصدِ شرعی کے لئے جائز ہے یا حصول غرضِ دنیاوی یعنی غیر شرعی کے لئے بھی جائز ہوگا؟ نیز حصول دولت جب کہ ضرورت سے زائد ہو امر دینی ہو گا یا دنیاوی وغیر شرعی؟
جواب
(۱) قرآن کریم کی ہر سطر پر انگلی پھیر کر بسم اللہ پڑھنا اور یہ سمجھنا کہ یہ بسم اللہ ہے، یہ غلط ہے۔ محض بسم اللہ پڑھنے کا ثواب مستقل ہے۔ (۲) اس طریقہ کو ختم قرآن کہنا اور سمجھنا غلط ہے۔ (۳) اگر کوئی وظیفہ ایسا ہو کہ قرآن کریم کی سطور کے عدد کے موافق بسم اللہ پڑھی جائے تو اس کی گنجائش ہے۔ (۴) خلاف دین کسی مقصد کا حاصل کرنا اور اس کے لئے وظیفہ پڑھنا درست نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔