سیاسی غیر مسلم ہندوؤں کی آمد پر قرآن کریم کی تلاوت کے ذریعہ مجلس کا افتتاح
سوال
ایک سیاسی مجلس میں ہندو مسلم شریک ہوں اور یہ مجلس ہندو لیڈروں کی آمد پر منائی گئی ہو اور چند ہندو مجلس کا افتتاح قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ کرنے کے متمنی ہیں۔ دریں صورت تلاوت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ نوٹ: تلاوت نہ کرے تو تعصب کا اندیشہ ہے۔
جواب
اگر اس مقصد سے تلاوت کی جائے کہ اللہ کے کلام سے ان کے قلوب متاثر ہو کر اسلام سے قریب ہو جائیں تو گنجائش ہے۔ اگر محض رسمی طور پر ہو یا اس کے اعزاز میں ہو تو اجازت نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔