الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شادی میں لڑکی والے کے یہاں کھانا کھانا

سوال

زید لڑکی کے عقد میں عزیز واحباب میں کھانے کی دعوت کرتا ہے تو عمر کہتا ہے کہ لڑکی کی طرف سے کھانا جائز نہیں ہے۔ لہذا لڑکی والوں کے یہاں کھانا کیسا ہے؟ کیونکہ باراتی ہوٹل میں کھانا کھائیں اور لڑکی کے یہاں نہ کھائیں۔ یہ تو ہندؤوں کی رسم ہے، شرعاً کیا حکم ہے؟

جواب

یہ صحیح ہے کہ ولیمہ لڑکا یا اس کے اولیاء کریں گے۔ لیکن جو لوگ لڑکی والے کے مکان پر مہمان آتے ہیں اور ان کا مقصود شادی میں شرکت کرنا ہے اور ان کو بلایا بھی گیا ہے تو آخر وہ کھانا کہاں جا کر کھائیں گے اور اپنے مہمان کو کھلانا تو شریعت کا حکم ہے اور حضرت نبی اکرم ﷺ نے تاکید فرمائی ہے۔ البتہ لڑکے والے کی طرح مقابلہ پر ولیمہ لڑکی کی طرف سے ثابت نہیں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو