اپنے یہاں کی تقریب کے باوجود دوست کی تقریب میں شرکت
سوال
کوئی ذی حیثیت آدمی اپنی دولڑکیوں کی شادی کرتا ہے۔ اپنی مخالفت نیز دورِ حاضر میں دیگر دوراندیشوں کے تحت انھیں شادی ہونے والی لڑکیوں سے ہی بارات کے دس پانچ آدمیوں کا کھانا بھی پکوانا چاہتا ہے۔ لیکن اتفاقاً ایسا ہو جاتا ہے کہ اس دن قدرتاً ایسا آ پڑتا ہے کہ پاس ہی لڑکیوں کے باپ کے ایک ذی حیثیت دوست کے لڑکے کی شادی کا ولیمہ اسی دن ہوتا ہے اور باراتی صاحبان کو کھانا ولیمہ کا کھلایا جاتا ہے، تو کیا باراتی صاحبان یالڑکیوں کے باپ کی عزت میں کوئی فرق آتا ہے، یا کوئی بد نما دھبہ کسی پر قائم ہوتا ہے؟ اور کہاں تک جائز ہے؟
جواب
اگر اس ذی حیثیت دوست کے ساتھ لڑکیوں کے والد اور باراتیوں کا محبت اور بے تکلفی کا تعلق ہے اور وہ اعزاز واکرام کے ساتھ لڑکیوں کے والد اور اس کے مہمان (باراتیوں) کی دعوت کرتا ہے جس کو سب بخوشی منظور کر لیتے ہیں، تو اس کی وجہ سے عزت میں فرق نہیں آئیگا۔ نہ کوئی بدنما دھبہ لگے گا، بلکہ داعی پر بھی ان کا احسان ہوگا کہ اپنی تقریب کے باوجود دوست کی تقریب میں شرکت ودعوت کو منظور کر لیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔