الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بارات کا کھانا

سوال

بعض مسلمان برادریوں میں شادی کے موقع پر یہ طریقہ رائج ہے کہ لڑکے والے جو بارات لے کر دلہن کے گھر جاتے ہیں تو ان تمام براتیوں کو بشمول عورت ومرد کھانا کھلایا جاتا ہے جس کو عرف عام میں بارات کا کھانا کہتے ہیں۔ کچھ لوگ بارات کا کھانا اس لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کے بغیر برادری میں ان کی قدر ومنزلت نہ رہے گی یا بدنامی ہوگی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ رسم بند ہونی چاہئے۔ یہ اسراف بیجا اور غیر شرعی فعل ہے اور اس رسم کے بند ہو جانے سے ان لوگوں کی بھی پردہ پوشی ہوگی جو کہ بارات کا کھانا کھلا نیکی استطاعت نہیں رکھتے۔

جواب

حضور اکرم ﷺ کے مبارک وقت میں شادی کی یہ شان نہیں تھی جو آج کل رائج ہے۔ حضرت عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ عنہ نے شادی کی، حضرت رسول اللہ ﷺ کو مدعو نہیں کیا، بلکہ خبر تک بھی نہیں کی ہے اسی طرح حضرت جابر ابن عبداللہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ کتب حدیث میں مذکور ہے بارات کا یہ طریقہ بڑے بوڑھوں نے اس لئے رائج کیا تھا کہ لڑکی کو جہیز کثیر مقدار میں دیا جاتا تھا اور ایک ایک جہیز کی پوری…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو