منکوحہ فاسدہ کی بیٹی سے نکاح
سوال
زید جمیلہ بیوہ کے گھر سکونت پذیر ہے اور جمیلہ اپنے نفس کا واک اختیار زید کو دے دیتی ہے اور وہ زید مذکور قبول کر لیتا ہے اور جمیلہ مذکورہ کو اپنی بیوی جان کر اس کے ساتھ جماع کرتا رہتا ہے مگر ایجاب وقبول کے وقت شاہد موجود نہیں ہیں بعد میں یہ عورت لوگوں کو کہتی ہے کہ میں نے اپنے نفس کا واک زید کو دے دیا ہے اب یہ نکاح بلاشہود فاسد ہے یا کہ صحیح۔ اگر فاسد ہے تو زید جب جمیلہ کے ساتھ جماع کرتا رہا،ساتھ نکاح فاسد کے تو جمیلہ مذکورہ کی بیٹی جو بکر سے ہے زید مذکور نکاح کر سکتا ہے یا نہیں۔
جواب
بلا گواہوں کے نکاح جائز نہیں۔ لہذا یہ نکاح صحیح نہیں ہوا اور اس جماع کی وجہ سے زید اور جمیلہ سخت گنہ گار ہوئے۔ ان دونوں کی علیحدگی اور متارکت واجب ہے۔جب زید جمیلہ سے جماع کر چکا ہے تو جمیلہ کی اولاد خواہ کسی سے ہوزید پر حرام ہے لہذا زید کا نکاح جمیلہ کی بیٹی سے جو بکر سے ہے ہرگز جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔