بھائی کی بہن سے نکاح
سوال
زید نے ایک عورت سے نکاح کیا مثلاً ہندہ سے اور اس عورت کے ساتھ پہلے خاوند مثلاً عمر سے ایک لڑکا ہے اور عمر کے انتقال کے بعد زید نے یہ نکاح کیا ہے اب زید نے دوسری عورت سے نکاح کیا ہے اور پہلی عورت کے نکاح کے بعد اس دوسری عورت سے زید کے نطفہ سے ایک لڑکی پیدا ہوئی تو آیا اس لڑکے کا نکاح اس لڑکی کے ساتھ ہو سکتا ہے کہ نہیں یعنی وہ لڑکا عمر کے نطفہ سے ہے مگر عمر کے انتقال کے بعد اس لڑکے کی والدہ زید کے نکاح میں آگئی اور زید کے پہلی عورت سے ایک لڑکی ہے تو ان دونوں کا نکاح جائز ہے یا نا جائز اور اس لڑکی کا نکاح نابالغی کے…
جواب
یہ نکاح جائز ہے اگر لڑ کی بالغہ ہو تو خود اس کی اجازت بھی کافی ہے بشرطیکہ نکاح برادری میں مہر مثل پر ہو، اگر نابالغہ ہے یا نکاح غیر برادری میں ہو یا مہر مثل سے کم پر ہو تو لڑکی کے ولی کی اجازت ضروری ہے اور صورت موجودہ میں باپ ولی ہے لڑکی کے پہلے خسر سے اجازت کا کوئی تعلق نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔