الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز استسقاء کے شرائط

سوال

اکثر ضلعوں میں بارش ہے لیکن کچھ ضلعے ایسے ہیں جہاں بارش نہیں ہے مثلاً جیسے ضلع رہتک یا اس کے اردگرد بارش نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو عجیب پریشانی ہے اور مویشیوں کی حالت تو قابل عبرت ہے، سننے میں آیا ہے کہ ہزار ہا مویشی زمین چاٹ چاٹ کر مر گئے کیونکہ پچھلے سال بھی بارش نہ ہونے کی وجہ سے کچھ پیداوار زیادہ نہ تھی اور اس سال بھی بارش نہیں ہوئی جسکی وجہ سے یہاں تک نوبت پہونچی کہ قحط کی صورت ہوگئی ایسی حالت میں نماز استسقاء کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

جب بارش نہ ہو اور نہریں کنویں وغیرہ بھی نہ ہوں یا کنویں وغیرہ ہوں مگر ان میں پانی بالکل نہ ہو یا پانی ہو مگر بقدر حاجت نہ ہو یعنی خود پینے کیلئے جانوروں کو پلانے کیلئے کھیتی کرنے کیلئے کافی نہ ہو، تو اس وقت استسقاء مشروع ہے اور جب پانی بقدر کفایت موجود ہو تو مشروع نہیں، وشرعاً طلب انزال المطر بكيفية مخصوصة عند شدة الحاجة بان يحبس المطر ولم يكن لهم اودية وأباروانهار يشربون منها…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو