الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عید گاہ میں جمعہ اذان ثانی واقامت سے

سوال

ایک جنازہ کی نماز میں شرکت کے لئے زیادہ لوگ آگئے اور جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے مسجد میں اتنی گنجائش نہیں تھی کہ تمام لوگ نماز جمعہ مسجد میں ادا کر سکیں لہذا تمام لوگوں نے اس پر اتفاق کرلیا کہ چل کر عید گاہ میں نماز جمعہ ادا کر لی جائے جب کہ مسجد میں اذان ہو چکی تھی، اور اذان کی آواز عید گاہ تک پہونچ جاتی ہے۔ (۱) ایسی صورت میں عید گاہ میں دوبارہ اذان دی جائیگی یا نہیں جبکہ اذان ہونے کے بعد تمام لوگ مسجد سے عید گاہ روانہ ہوئے تھے۔ (۲)

جواب

یہ طریقہ غلط اختیار کیا گیا ہے، مسجد میں حسب سابق جمعہ پڑھنا چاہئے تھا، جو لوگ زائد رہ جاتے عید گاہ میں جا کر اذان و خطبہ کے ساتھ جمعہ ادا کر لیتے مسجد کو خالی چھوڑنا ٹھیک نہیں تھا اس سے مسجد کا حق ادا نہیں ہوا حق تلفی ہوئی، عید گاہ یا جس جگہ بھی جمعہ ادا کیا جائے اذان اول اور اذان ثانی کے ساتھ ادا کیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو