زانیہ اور ولد زنا کے احکام
سوال
کسی انقلاب کی وجہ سے مسلمان کی بالغ لڑکی کافر کے ہاتھ میں قید ہوگئی ہے، یہاں تک کہ مسلمہ عورت سے کافر کے بچے تولد ہوئے پھر بحکم خداوند فعال لما یرید کافر کی قید چھوٹ گئی اور وہ بچے جو کافر کے نطفہ سے تولد ہوئے اسی عورت کے ساتھ مسلمانوں کے پاس آئے چونکہ وہ بچے اب تک نابالغ ہیں اسلئے یہ امر دریافت طلب ہے کہ وہ بچے ماں کے تابع ہو کر مسلمان ہو جائیں گے یا نہیں اگر وہ بچے مرجائیں تو صلوٰۃ جنازہ ان پر پڑھی جائیگی یا نہیں؟
جواب
وہ بچے مسلمان ہیں ان پر صلوٰۃ جنازہ پڑھی جاوے گی، الا یہ کہ بڑے ہو کر کفر اختیار کریں، ”والعیاذ بالله ماں کے ذمہ حفاظت اور پرورش ضروری ہے ان بچوں کو قتل کرنا حرام ہے، ماں کے مرنے پر وہ بچے میراث کے مستحق ہوں گے، بصورت فراش کسی بچے کو ولد زنا قرار دینا بلا وجہ شرعی حرام ہے اور اس طرح ولد الزنا نہیں ہوتا، اگر کوئی اس کو ولد الزنا کہے تو وہ واجب التعزیر ہے، اول اس کے ولد الزنا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔