صلوٰۃ جنازہ حاضرین پر فرض کفایہ ہے
سوال
صلوٰۃ جنازہ فرض کفایہ ہے اگر کوئی حاضر ہو جائے تو اس کے اوپر بھی فرض کفایہ ہے یا نہیں ایک عالم صاحب فرماتے ہیں اس پر فرض عین ہو جاتا ہے یہ صحیح ہے یا نہیں) اور حاشیہ شرح وقایہ میں مولانا عبد الحئی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرض کفایہ لکھا ہے ان کے حق میں بھی لیکن کتاب کا حوالہ نہیں دیا اگر دیگر کتاب سے یہ مسئلہ معلوم ہو تو ارسال فرمائیے معہ حوالہ کے۔
جواب
صلوۃ جنازہ کا جمیع حاضرین پر فرض کفایہ ہونا عبارات مذکورہ سے بالکل صاف طور پر ظاہر ہے، اگر کوئی شخص حاضر نہ ہو صرف ایک آدمی ہو اس پر البتہ فرض عین ہے جیسا کہ عام فرض کفایہ کا حکم ہوتا ہے، جو عالم جمیع حاضرین پر فرض عین کہتے ہیں فرضیت کی دلیل ان ہی سے دریافت کی جائے، کتب معتبرہ، متون، شروح، فتاوی میں کہیں فرض عین ہونا جميع حاضرین پر مذکور نہیں، شرح وقایہ کے حاشیہ میں فرض عین…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔