ایک امام کی گمراہی خدا اور رسول کے متعلق
سوال
ایک آدمی کہتا ہے جو کہ امامت بھی کرتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے حضرت مولانا محمد قاسم صاحب بانی دارالعلوم دیوبند کو چشم خود تقریر کرتے ہوئے دیکھا ہے اور حاضرین سے یوں کہتا ہے کہ تم نے اللہ کو دیکھا ہے، میں نے کہا کہ حضرت ہم نے تو نہیں دیکھا ہے، تو حضرت رومال اپنی جیب سے نکال کر اور بغیر بادل کے کڑک اور گرج شروع ہوئے کافی دیر کے بعد لوگوں کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا دیکھو رومال میں خداوند قدوس کا بت اور پتلہ مع اعضاء بشریت موجود ہے نعوذ باللہ منہا اور یوں کہتا ہے کہ میں نے بھی دیکھا ہے جب کہ اس شخص کی عمر ۵۵ سال کی…
جواب
جو شخص اللہ تعالیٰ کا پتلہ مع اعضاء بشری رومال سے نکال کر حاضرین کو دکھلائے (نعوذ باللہ) وہ ہرگز اس قابل نہیں کہ اس کو امام بنایا جاوے ایسے شخص کی صحبت سے دور رہیں نہ جانے کیا کیا شعبدے دکھلا کر گمراہ کرے گا جس سے ایمان بھی سلامت نہیں رہے گا، اللہ تعالیٰ ایسی چیز نہیں جس کو رومال میں بند کیا جاوے یا اس کیلئے پتلہ بنایا جا سکے یا اس کے اعضاء بشری موجود ہوں، خداوند تعالیٰ ایسی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔