الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

Учебник, восхваляющий проповеди, газеты и «нравственные» фильмы

سوال

مدرسہ دار العلوم میں جدید نصاب میں داخل کتاب میں لکھوایا گیا ہے، وعظ اچھی تقریریں اخبار اور اخلاقی فلم اچھا شہری بناتی ہیں، ایسا لکھنا صحیح ہے اس علم کو پڑھنا جائز ہے یا نہیں، اگر جائز قرار دیا جائے تو مناسب ہے اور طلباء پڑھتے ہیں اور طلباء کی ذہنیت گندی ہو جاتی ہے، اگر اخلاقی فلمیں دیکھنا جائز قرار دیا جائے، تو فلمیں خانہ خدا کو بدرجہ اولی جائز قرار دیا جائے؟

جواب

کسی شئی میں دنیوی فوائد کا ہونا اس کے جائز ہونے کی دلیل نہیں، جیسے شراب میں نفع ہونے کا قرآن پاک نے بھی اقرار کیا ہے، پھر بھی وہ حرام ہے کوئی بے وقوف اگر قرآن پاک میں اس کا نفع پڑھ کر اس کا استعمال کرنے لگے یہ خود اس کی غلطی ہے ”يسألونك عن الخمر والميسر قل فيهما اثم كبير ومنافع للناس واثمهما اكبر من نفعهما الایة، جوشخص فلمیں یا ہرقسم کے جھوٹے سچے اخبار دیکھتے ہیں وہ شریعت کی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو