الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آنے والے کے ذمہ سلام ہے

سوال

کسی شخص کے یہاں کچھ آدمی مزدوری کرتے ہوں، جیسا کہ کھیت کاٹنا اور وہ اپنے کام میں مشغول ہے۔ ایک شخص پیچھے سے آکر کھڑا ہو گیا۔ اور یہ مزدور جو کہ کام کرنے والے تھے وہ مختلف برادری کے تھے اور نماز وغیرہ کے بالکل پابند نہیں تھے۔ ان میں سے ایک آدمی نے پیچھے ہو کر اس شخص کو سلام کیا۔ جو پیچھے کھڑے ہو گئے تھے انہوں نے سلام کا جواب آہستہ آواز سے دیا۔ جس آدمی نے سلام کیا تھا اس کو اس کے ساتھیوں نے نصیحت کی کہ تم کو سلام نہ کرنا چاہئے تھا۔

جواب

جو شخص کسی کے پاس جائے اس کو چاہئے کہ سلام کرے اور جس کے پاس جائے وہ سلام کا جواب دے۔ لیکن اس نے سلام نہیں کیا وہ خاموش ہو کر کھڑا ہو گیا۔ اور جس کے پاس گیا تھا اس نے سلام کیا۔ اور اس کی بڑائی کا لحاظ کر لیا تب بھی گناہ نہیں بلکہ اس کو بہت ثواب ملے گا۔ اس پر اعتراض کرنا اور سلام سے روکنا غلط ہے۔ جو شخص سلام کی ابتدا کرے اس کی فضیلت آئی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو