السلام علیکم میں اضافہ
سوال
زید بکر کی ملاقات کے وقت اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ کہتا ہے اور بکر اس کے جواب میں ورحمۃ اللہ و برکاتہ و مغفرتہ کہتا ہے۔ بکر کا یہ کہنا جائز ہے یا نہیں مع حوالہ کتب تحریر کیجئے۔ (۲) اگر زید و رحمۃ اللہ وبرکاتہ و مغفرتہ کہتا ہے اور بکر اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ صرف نہ کہکر یہ بھی کہتا ہے کہ سلام کا جواب دینے والا ومغفرتہ نہیں کہے گا لہذا ایسی صورت سب جائز ہے یا ناجائز اور سوال کا جواب دینے والا صحیح راستے پر ہے یا نہیں۔ (۳) یہ بھی تحریر کریں کہ و مغفر تہ سلام کے اندر کہنا بدعت ہے یا نہیں؟
جواب
روایات میں ومغفرتہ بھی آیا ہے اور بعض میں اس سے زائد بھی سلام میں اور جواب میں بھی اور بعض میں وبر کاتہ کو سلام کی انتہا بتایا گیا ہے اور اس پر اضافہ کو منع کیا گیا ہے اسی لئے علماء نے لکھا ہے کہ سلام اس طرح کرنا مستحب ہے السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ اور جواب میں بھی اسی طرح مستحب ہے یعنی وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اس پر اضافہ و مغفرتہ کا نہ سلام کا کرنے والا کرے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔