الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طریق سلام اور اس کا جواب

سوال

ایک شخص کہتا ہے ”السلام علیکم“ دوسرا شخص جواب میں کہتا ہے” وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ و مغفرتہ“ کیا یہ جواب درست ہے اس کا کہیں سے ثبوت ملتا ہے یا نہیں۔

جواب

افضل یہ ہے کہ سلام کرنے والا اسطرح سلام کرئے ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ اور جواب دینے والا ”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔ اس سے زیادہ کوئی لفظ بڑھانا جیسے ومغفرته مناسب نہیں اگر چہ بعض روایات میں لفظ ” ومغفرتہ سلام کے ساتھ وارد ہوا ہے جیسا کہ مشکوة شریف ص ۳۹۸ میں ہے، مگر حضرت ابن عباس نے فرمایا ہیکہ سلام کی انتہا و برکاتہ“ ہے، والافضل للمسلم ان يقول السلام عليكم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو