تقلیم اظفار وغیرہ کی مدت
سوال
ایک شخص کو حاجت زیر ناف بال بنانے کی ہوئی اور اس نے یہ حاجت پوری کی لیکن اسکی عقل میں یہ نہ آیا کہ یہاں تک کاٹے یعنی کل ادھر سے ادھر تک نیچے سے اوپر تک اب کاٹنے میں جان کر یعنی خود مجبور ہو کر نیچے سے کچھ بال دو چار چھوڑ دے یا انجان بنے سے خود بخود چھوٹ گئے بعد میں دیکھا ہو تو پھر کیا کر سکتا ہے جب کہ کاٹ چکا اور پاک وصاف ہو چکا۔ لہذا اب یہ بتانا چاہئے کہ آیا پھر کل بال کاٹے یا چھوڑ دے اور چالیس دن کے بعد کاٹے یا چالیسویں دن ضرور کاٹ لے یا نماز واقعی نہیں ہوتی۔
جواب
مستحب اور افضل یہ ہے کہ ان دو چار بالوں کو بھی صاف کر دے۔ افضل یہ ہے کہ ہر ہفتہ بال صاف کرے ورنہ پندرہ روز میں صفائی کرے۔ چالیس روز تک بال صاف نہ کرنا گناہ ہے۔ ایسے شخص کی نماز بھی مکروہ ہوتی ہے۔ یستحب ان يقلم اظفاره ويقص شاربه ويحلق عانته وينظف بدنه في كل اسبوع مرة يوم الجمعة افضل ثم في خمسة عشر يوماً والزائد على الاربعين اثم طحطاوی ص ۳۰۴۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔