کیا دوانہ کرنے سے ہلاک ہونے پر مواخذہ ہے
سوال
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقولہ ہے کہ صحت دواؤں سے نہیں ملا کرتی، ایسی صورت میں کیا دوا کرنا بے کار ہے کیونکہ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہیں گے تو دوافائدہ دے گی ورنہ نہیں، اللہ تعالیٰ بلا سبب کے بھی شفا دے سکتے ہیں، افضل یہ ہی معلوم ہوتا ہے، کہ سبب اختیار کیا جائے، اور دوا ترک نہ کی جائے لیکن اگر کوئی سبب اختیار نہ کرے اور ہلاک ہو جائے اور وہ شخص قادر تھا کہ سبب اختیار کر سکے تو اس پر مواخذہ ہو گا یا نہیں؟
جواب
اگر وہ سبب یقینی نہیں اور اس کو اختیار نہ کر کے آدمی ہلاک ہو گیا تو مواخذہ نہیں ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔