بیع سے پہلے کرایہ وصول کرنا
سوال
۱۹۳۸ء میں ہندہ نے اپنا مکان ہبہ زید کے نام کر دیا، رجسٹری کرا کر اس کے حوالہ کر دی چنانچہ زید اس مکان میں رہنے لگا، پھر بیس سال کے بعد یعنی ۱۹۵۸ء میں ہندہ نے زید سے ناراض ہو کر موہوبہ مکان کو ہبہ نامہ رد کرا کر مسجد کے نام رجسٹری کرادی، زید نے ۱۹۶۴ء میں آ کر مکان کو حارث کے نام پر ایک ہزار روپیہ میں فروخت کر دیا، اس فروخت کی کیفیت سن کر مسجد کے متولی نے زید سے کہا کہ میں تجھے ایک ہزار روپیہ دیتا ہوں، تو اپنے اس مکان کو خالی کر کے میرے حوالہ کر دے، چنانچہ زید نے متولی کے اس قول کو تسلیم کر لیا، متولی نے قیس سے ایک…
جواب
ہندہ نے جب مکان اپنے بیٹے زید کو ہبہ کر دیا اور رجسٹری کر کے اس کے حوالہ کر دیا یعنی اپنا قبضہ ختم کر کے بیٹے کا قبضہ کرا دیا، تو وہ ہبہ بالکل مکمل ہو گیا اور مکان زید کی ملکیت میں آ گیا، پھر ہندہ نے ناراض ہو کر اس کو مسجد کے نام کر دیا، تو یہ مسجد میں دینا صحیح نہیں ہوا، بلکہ بدستور زید ہی کی ملکیت میں رہا، پھر جب زید نے اس مکان کو حارث کے نام فروخت کر دیا تو وہ مکان حارث کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔