بدعت کی تقسیم
سوال
بدعت کی تقسیم جو بعض کتابوں میں نظر آتی ہے، اس تقسیم کا موجد کون ہے؟ اگر بالفرض بدعت حسنہ وسیئہ وغیرہ سے تقسیم ثابت ہو تو کل بدعة ضلالة وكل ضلالة في النار قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا جواب ہوگا؟
جواب
شامی باب الامامۃ میں بدعت کی قسمیں بیان کی ہیں، علامہ عز بن عبد السلام سے منقول ہے تراویح کی یکجائی جماعت کے متعلق حضرت عمر کا ارشاد ہے نعمت البدعۃ اس وجہ سے سیئہ وحسنہ کی تقسیم کی گئی، ورنہ بدعت حسنہ در حقیقت معنی لغوی کے اعتبار سے بدعت ہے، نہ معنی شرعی کے اعتبار سے اس لئے” کل بدعۃ ضلالہ“میں بدعت شرعیہ وسیئہ مراد ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔