رات میں جھاڑو دینا، منہ سے چراغ گل کرنا، دوسروں کا کنگھا استعمال کرنا
سوال
اغلاط العوام ص ۱۸ پر ایک مسئلہ ہے جس کا مضمون یہ ہے کہ بعض لوگ رات کو جھاڑو دینے کو یا منہ سے چراغ گل کرنے کو یا دوسرے کا کنگھا کرنے کو اگرچہ با اجازت ہو برا سمجھتے ہیں اس کی بھی کوئی اصل نہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر رات میں جھاڑو دیجائے تو درست ہے لیکن احقر نے شیخ فریدالدین عطار کی کتاب ”پند نامہ“ ہے اس کا مطالعہ کیا تو اس کے ص ۴۳ پر یہ مصرع دیکھا: شب مزن جاروب ہرگز خانہ در۔
جواب
پند نامہ فقہ کی کتاب نہیں نہ فقہی حیثیت سے اس میں ممانعت مذکور ہے بلکہ بتانا یہ مقصود ہے کہ مکان صاف کرنے اور جھاڑو دینے کا وقت عرفا دن ہے رات نہیں ہر کام اپنے وقت پر کرنا چاہئے مگر یہ تعیین فقہی تعیین نہیں کہ اس کے خلاف کرنے سے آدمی گنہ گار ہو۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔