قلیل وقت میں کثیر عبادات ایک روایت پر اشکال کا جواب
سوال
”فضائل نماز“ ص ۸۱/ پر ایک روایت نزہۃ البساتین کے حوالہ سے حضرت امام زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق درج ہے، جس میں منقول ہے، کہ موصوف روزانہ ایک ہزار رکعات نفل نماز پڑھا کرتے تھے، اس روایت پر ایک ریاضی داں صاحب کا اعتراض ہے، جبکہ وہ اپنے آپ کو اہل علم حضرات کی صف میں شامل سمجھتے ہیں، اعتراض ان کا یہ ہے کہ حضرت شیخ مدظلہ نے یہ روایت بلا سوچے سمجھے نقل کر دی، کیونکہ اگر دو رکعت نماز کیلئے دس منٹ صرف ہوں تو ۴۲ گھنٹہ میں صرف ایک ہزار رکعت پوری ہوسکیں گی، اور اگر اس سے نصف وقت بھی مان لو تو ۲۴ گھنٹہ میں سے تقریباً…
جواب
اللہ تعالیٰ اپنے مخصوص بندوں کے وقت میں برکت عطا فرماتے ہیں، جو ریاضی کے حساب سے بالا تر ہے، امام نووی نے لکھا ہے کہ بعض حضرات کا معمول رہا ہے کہ وہ ۲۴/ گھنٹہ میں آٹھ مرتبہ پورا قرآن کریم ختم کیا کرتے تھے۔ عصر کی نماز کے بعد جمنا کے کنارے دہلی میں کھڑے ہو کر شروع سے آخیر تک پڑھ کر مغرب سے پہلے پہلے ختم کرنا حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب شہید کے حالات میں بھی درج ہے، شیخ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔