الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قربانی کے جانور کی رسی کا صدقہ ہے

سوال

قربانی کے جانور کی رسی اور جھول وغیرہ کو صدقہ کر دینا واجب ہے، ہمارے یہاں کا رواج ہے کہ لوگ جانور خرید کر پھر بائع کے پاس چرائی پر چھوڑ دیتے ہیں، اور اس کو چرائی کی اجرت دیتے ہیں، جب قربانی کرنی ہوتی ہے تو جا کر جانور کو اپنی رسی میں باندھ کر لاتے ہیں، اور فوراً قربانی کر دیتے ہیں، کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسی رسی میں پھر سے جا کر دوسرے جانور کو باندھ کر لاتے ہیں، اور ذبح کر دیتے ہیں، ایسی صورت میں رسی اس جانور کی قرار پائیگی، اور واجب التصدق ہوگی، یا وہ رسی جس میں بائع جانور کو اپنے گھر باندھتا تھا؟

جواب

قربانی کا جانور خرید کر جب لایا گیا اور بائع نے اس کو رسی میں باندھ کر دیا، یعنی مع رسی کے تو اس رسی کو صدقہ کر دیا جائے، اگر اپنی رسی میں اس کو رکھا ہے تو اس کو صدقہ کرنے کا حکم نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو