گائے کا دو تہائی سینگ ٹوٹ جائے تو اس کا حکم اور ہدایہ وحجۃ اللہ البالغہ کی عبارت میں تطبیق
سوال
گائے کا سینگ اگر ثلاثین، باقی نہ رہے تو اسکی قربانی جائز ہے یا نہیں؟ نیچے کے دو قول کی تطبیق کیا ہے، صاحب ہدایہ فرماتے ہیں” ويجوز الا ضحية مكسورة القرن لما قلنا یہ کس طرف مہموز ہے، ہدایہ کے ماقبل باب میں یعنی ذنب اور اذن کے بیان میں الاكثر حكم الكل “ کی طرف مہموز ہے یا نہیں؟ حجۃ اللہ البالغہ میں شاہ صاحب اضحیہ کے باب میں یہ فرماتے ہیں کہ ” وینھی عن اعضب القرن والاذن ان دو متضاد قول میں تطبیق کیا ہے؟ بالتفصیل جواب تحریر فرمائیں؟
جواب
جس جانور کا سینگ بالکل جڑ سے اُکھڑ گیا ہو، اس کی قربانی درست نہیں، جس کی جڑ باقی ہے، اس کی قربانی درست ہے، اگر چہ نصف سے زیادہ بقدر ثلاثین ٹوٹ گیا ہو، ہدایہ ص ۴۳۲/ ج ۴/ میں ہے ” ويجوز ان يضحى بالجماء وهي التي لاقرن لها، لان القرن لا يتعلق به مقصود و كذا مكسورة القرن لما قلنا اھ“ اذن اور ذنب پر قرن کو قیاس کرنا صحیح نہیں، ان دونوں کا حکم علیحدہ مذکور ہے، ”ولا تجزى مقطوعة الاذن…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔