الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

(۲) محمد بن عبدالوہاب کا حال / (۳) نجد کی تحقیق

سوال

(۲) محمد بن عبدالوہاب کے بارے میں عقائد علماء دیو بند ص ۱۲۹۱ ہمارے نزدیک اس کا حکم وہی ہے جو صاحب در مختار نے فرمایا ہے، اور خوارج ایک جماعت ہے، شوکت والی، جنہوں نے امام پر چڑھائی کی تھی، اور تاویل سے امام کو باطل یعنی کفر یا ایسی معصیت کا مرتکب سمجھتے تھے، جو قتال کو واجب کرتی ہے، اس تاویل سے یہ لوگ ہمارے مال اور جان حلال سمجھتے اور ہماری عورتوں کو قیدی بناتے ہیں، آگے فرماتے ہیں، کہ ان کا حکم باغیوں کا ہے، پھر یہ بھی فرمایا کہ ہم ان کی تکفیر صرف اس لئے نہیں کرتے ہیں کہ یہ فعل تاویل سے ہے، اگر چہ باطل ہی سہی اور…

جواب

(۲) ہندوستان کے علماء نے محمد بن عبدالوہاب سے ملاقات نہیں کی جیسی خبریں لوگوں نے سنائیں اور سنا کر دریافت کیا، اس کے متعلق جواب دیا، چونکہ مسلمان سے نیک گمان رکھنا چاہئے اور نیک گمان کیلئے کسی دلیل کی حاجت نہیں، اسلام خود ضامن ہے، البتہ بد گمانی کی دلیل نہ ہو اس لئے تکفیر میں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو