سلاسل صوفیہ کی انتہاء حضرت علی پر کیوں ہے؟
سوال
بعض لوگ کہتے ہیں کہ چونکہ بزرگوں کے چاروں سلسلے حسن بصری کے واسطے علی تک پہونچتے ہیں اس لئے ان سلاسل کی سند مشکوک معلوم ہوتی ہے اور اس میں روافض کی دسیسہ کاریوں کا شبہ ہوتا ہے کیونکہ اولاً تو حسن بصری کی حضرت علیؓ سے ملاقات میں اختلاف ہے اور اگر ملاقات ثابت بھی ہو تو کیا حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر فاروق اور دوسرے اکابر صحابہ تصوف اور علم باطن میں کمال نہیں رکھتے تھے اگر رکھتے تھے اور یقین رکھتے تھے تو پھر یہ باطنی سلسلہ حضرت علی ہی سے کیوں چلا دوسرے صحابہ سے کیوں نہ چلا۔
جواب
جو نسبت احسانیہ حضرت علی کو آنحضرت ﷺ سے حاصل ہوئی تھی اس کو انھوں نے خلیفہ اول (صدیق اکبر) سے پھر خلیفہ ثانی (عمر فاروق) سے پھر خلیفہ ثالث (عثمان غنی) سے راسخ اور مستحکم کیا تو یوں سمجھئے کہ ان کی نسبت رسول اکرم ﷺ اور آپ کے خلفاء ثلثہ کے فیضان کا مجموعہ تھی جس طرح حضرت عثمان غنی کی نسبت حضور اقدس ﷺ اور شیخین کے فیضان کا مجموعہ تھی، ان حضرات میں سے حضرت ابو بکر صدیق تنہا ایسے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔