تصوف اور سلوک
سوال
(۱۲۵۹) سلوک کا مقصود یہ ہے کہ بندہ کا دل حق تعالی کی مرضیات کا ایسا طالب ہو جائے جیسا کہ جسم غذا کا طالب ہے اور اس کو عبادت کی ایسی خواہش ہو جائے جیسی صحت مند جسم کو غذا اور پانی کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ دل حق تعالیٰ کی محبت و عظمت سے پر ہو جائے اور ماسوی اللہ کی محبت و عظمت سے خالی ہو جائے جب تک کہ اغیار کی محبت و عظمت اس درجہ میں قائم ہے کہ اللہ پاک کی محبت و عظمت سے مزاحمت کرتی ہے اس وقت تک وہ مرضیات حق کا طالب نہیں ہو سکتا اور نہ معاصی سے پوری طرح بچ سکتا ہے اللہ تعالیٰ کی محبت و عظمت کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔