اوجھڑی، آنتیں حرام نہیں، گدھی اور سور کا دودھ
سوال
زید ایک پرچہ لایا ہے جس کا نام الحامد ہے جو ماہنامہ سنبھل سے نکلتا ہے، یہ پرچہ ماہ دسمبر ۱۹۷۰ء کا ہے، جو جلد نمبر ۱ اور شمارہ ۱۹ ہے، اس پرچہ کا مدیر اعزازی مولوی محمد حسن اشرفی ہے، اس فتوے کا لکھنے والا قاضی محمد عبد الرحیم بستوی رضوی ہے، (دار الافتاء بریلی) اور مولوی محمد حسن اشرفی نے بھی لکھا ہے، ص۲۲ پر کہ اوجھڑی آنتیں کھانا مکروہ تحریمی ہے، اور چند سطروں کے بعد لکھتا ہے کہ سور، گدھا کھانا حرام اور اس کا دودھ حلال ہے، پھر صفحہ ۳۰ پر لکھتے ہیں کہ وہ لوگ جو اوجھڑی کھاتے ہیں، وہ حرام خور ہیں، اوجھڑی، آنتیں مکروہ…
جواب
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا ارشاد در المختار، ص۴۷۷/ج۵ میں نقل کیا ہے کہ بکری کا بہتا خون تو حرام ہے اور چھ چیزیں مکروہ تحریمی ہیں، حدیث پاک بھی اس سلسلہ میں نقل کی ہے، ان چھ میں اوجھڑی اور آنت کا ذکر نہیں، گائے بھینس کا بھی یہی حکم ہے، جن صاحب نے اوجھڑی اور آنت کو مکروہ تحریمی لکھا ہے، جوابی خط بھیج کر ان سے دریافت کر لیا جائے کہ یہ مسئلہ فقہ کی کون سی کتاب میں ہے، اسی طرح سور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔