اوجھڑی اور آنتیں کھانا
سوال
حلال جانوروں کی اوجھڑی اور آنتیں کھانا جائز ہے یا نہیں؟ ماہنامہ فیض الرسول جولائی ۱۹۷۵ء کے صفحہ ۳۲ پر آخر میں جلال الدین احمد المجدی من اساتذۃ دار العلوم اہل سنت برداں شریف ضلع بستی نے اسی سوال کے جواب میں تحریر کیا ہے، کہ اوجھڑی اور آنتیں کھانا مکروہ تحریمی ناجائز اور گناہ ہے؟
جواب
”کرہ تحریماً وقیل تنزیہاً والاول اوجہ من الشاۃ سبع الحیاء والخصیۃ والغدۃ والمثانۃ والمرارۃ والدم المسفوح والذکر للاثر الوارد فی کراہۃ ذلک“ اہ (در مختار علی رد المحتار ص۶۵۴/ج۵)۔ فقہاء نے ان سات چیزوں کو منع فرمایا ہے، بعض نے نخاع کا بھی اضافہ کیا ہے، کذا فی الطحطاوی، آنتیں اور اوجھڑی کو ان میں شمار نہیں کیا جنہوں نے منع کیا ہے، ان سے کتب فقہ کا حوالہ مع نقل عبارت طلب کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔