الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مرنے کے بعد چھری پھیرنے سے مرغ حلال نہیں ہوتا

سوال

موضع شہر واسہ میں ایک شخص (مسلمان) کے یہاں مرغیاں پلی ہیں، ابھی چند دن ہوئے ایک کتے نے اس شخص کے ایک مرغ کو پکڑ لیا، اس شخص نے بڑی جدو جہد کے بعد مرغے کو مردہ حالت میں چھڑایا، دیکھنے والوں نے دیکھا کہ مرغا مر چکا تھا، مگر شخص مذکور نے مردہ مرغ پر چھری پھیر دی، اور کہتا رہا کہ مرغا پھڑک رہا تھا، مگر لوگوں نے اس کو مردہ قرار دیا، تو مان گیا، ساتھ ہی اسے مرغا کھانے کو منع بھی کیا گیا، اس شخص نے مرغا پکوا کر کھا لیا، ازروئے شریعت ارشاد فرمائیں کہ مسلمانان موضع ایسے شخص کو کیا سزا دے سکتے ہیں، یا اس کے خلاف کیا عمل کیا…

جواب

جو مرغ مر چکا ہو، جان نکل گئی ہو، اس پر چھری پھیرنے سے وہ حلال نہیں ہوگا، بلکہ وہ مردار ہی رہے گا، اس کا کھانا بالکل حرام ہے، جس نے اس کو کھایا اس نے قرآن کریم کے خلاف کیا ہے جس سے وہ سخت گنہگار ہوا، اس کو اپنی غلطی پر نادم ہو کر توبہ واستغفار لازم ہے، اور وہ مردار کھانے کا عادی ہو تو مسلمانوں کو اس سے اور اس کے گھر کا کھانا کھانے سے پورا پرہیز لازم ہے، کیا بعید ہے کہ وہ حرام…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو