معلم کتے کا شکار کھانا درست ہے
سوال
معلوم ہوا ہے کہ معلم کتا جو شکار پر چھوڑے جانے کے باوجود مالک کے واپس بلانے پر لوٹ آئے اور شکار کو نہ کھائے، بلکہ مالک کو لا کر دے، ایسا سدھایا ہوا کتا اگر شکار پکڑ لاوے، مثلاً خرگوش اور اس کتے کو بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر چھوڑا گیا ہو اور کتے کے پکڑنے سے خرگوش زخمی ہو جائے، اور خون بہنے لگے، اللہ دے صاحب کہتے ہیں اگر وہ خرگوش زندہ ہے تو مالک کو ذبح کرنا چاہئے اور اگر مر گیا ہے، تب بھی وہ حلال ہے اس کا کھانا جائز ہے، سوال یہ ہے کہ اللہ دے صاحب کا یہ کہنا کہاں تک درست ہے اور قرآن کی کونسی آیت سے یہ ثابت ہے اس کا…
جواب
اللہ دے صاحب نے اس مسئلہ میں جو کچھ کہا وہ صحیح ہے، سورہ مائدہ میں ہے: ”يَسْأَلُونَكَ مَاذَا أُحِلَّ لَهُمْ قُلْ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِنَ الْجَوَارِحِ... إِلَى قَوْلِهِ... فَكُلُوا مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكُمْ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ“ الآية، اس آیت سے یہ مسئلہ ثابت ہے، احکام القرآن نیز کتب فقہ شامی وغیرہ میں بصراحت یہ مذکور ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔