الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

جمعہ سے پہلے اور فجر کے بعد مسجد میں کتاب سنانا

سوال

میرا معمول ہے کہ بعد نماز فجر متصلاً و بعد اذان اول جمعہ کتاب مسجد میں سناتا رہتا ہوں، ایک نمازی نے اعتراض کیا کہ نماز پڑھنے والوں کو خلل ہوتا ہے میں نے اس کو کچھ جواب نہیں دیا، اور یہ استفتاء جناب کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں، آج کل تبلیغی جماعت اور علماء کا جو معمول ہے وہ بھی دیکھنے میں آتا ہے، اور آداب المساجد میں بھی جو دیکھا تو قول فیصل یہی نظر آیا کہ اگر نمازی اور نائم وغیرہ کو خلل انداز ہو تو ذکر جہری وغیرہ ممنوع ہے، یہاں تک کہ قرآن کریم بھی جہراً پڑھنا ممنوع لکھا ہے، اس کو مفصل تحریر فرمائیں نیز ہماری مسجد…

جواب

جمعہ کے لئے مشورہ سے طے کر کے سب نمازیوں کو اطلاع کر دیں کہ اذان اول کے بعد کتاب سنائی جائیگی، لوگ آ کر شریک ہوتے رہیں، جب اذان ثانی یعنی خطبہ میں ۵ منٹ باقی رہ جائیں، تو کتاب بند کر دی جائے اور اس وقت سب لوگ سنتیں پڑھ لیں اس سے کتاب بھی ہو جائے گی، اور کسی کی سنتوں میں بھی خلل نہیں آئے گا، یہ تو سہل ہے، لیکن فجر کے بعد جو لوگ آئیں ان کی نماز کو خلل سے بچانے کی آپ کی چھوٹی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو