الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

فدیہ نماز کا حیلہ

سوال

(۱) ایک شخص نے وصیت کی کہ میری کچھ نمازیں رہ گئیں تھیں جنکو میں قضا نہ کر سکا، اسلئے میری نمازوں کا فدیہ ادا کرنا، اب اگر اس کا صحیح فدیہ ادا کیا جائے تو اسکے گھر میں اتنا مال نہیں اور ورثاء میں بھی مقدور نہیں کہ اپنی طرف سے ادا کر دیں، تو کیا اگر فدیہ حیلہ کے ساتھ ادا کیا جائے یعنی جتنا فدیہ پورا بنتا تھا، اس قیمت کے عوض ایک قرآن شریف ایک مسکین پر فروخت کیا جائے بعدہ اس سے کہا جائے کہ جو تم پر قرضہ ہو گیا تھا اس کو اس میت کے فدیہ میں بخش دیا ہے، شاید کہ اللہ جل شانہ اس کی خلاصی فرمادیں، تو کیا خلاصی کی امید پر اس…

جواب

بحالت افلاس اس نوع کے حیلہ کی اجازت ہے، مگر یہ قرآن شریف فروخت کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ ایک ثلث ترکہ میت مصرف زکوۃ کو دیا جائے، اور حساب کر کے دیکھ لیا جائے کہ کس قدر نمازوں کا فدیہ اس کے ذریعہ سے ادا ہو گیا، پھر وہ فقیر اس ثلث ترکہ کو میت کے وصی کو ہبہ کردے اس کے بعد پھر وصی فقیر کو دیدے ثم و ثم یہاں تک کہ کل نمازوں کا فدیہ ادا ہو جائے، یہ اس وقت ہے جبکہ کل فدیہ ایک ثلث ترکہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو