امامت کے وقت اپنی عاجزی کا اعتراف
سوال
جب کبھی اتفاق سے امامت کا موقع ملتا ہے تو میں مصلیٰ پر کھڑے ہوکر نیت باندھنے سے پہلے اپنے دل میں خیال کر لیتا ہوں کہ یا اللہ میں اپنی ناقص توحید وایمان اور طہارت کے ساتھ تیرے ان بندوں کے بیچ میں واسطہ بن کر کھڑا ہوتا ہوں اسے معاف فرما اور میری نماز میں خشوع اور خضوع عطا فرما۔ اس کے بعد نیت باندھتا ہوں۔ اس کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
نماز شروع کرنے سے پہلے اس طرح اپنی عاجزی اور کمزوری کے اعتراف کا اظہار مناسب ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔