والدین کے اصرار کے باوجود دینی مشغولی کی وجہ سے نکاح نہ کرنا
سوال
ایک شخص کی عمر اٹھائیس ۲۸ سال ہے اور اس کے ماں باپ نکاح کرنے پر زور دیتے ہیں اور شخص اپنے دینی کام میں مشغول رہتا ہے اور اتنا کما نہیں رہا ہے کہ بیوی بچوں کو پال سکے اور نفس پر بھی قابو ہے شادی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے جس سے اس کے ماں باپ ناراض ہیں تو اس حالت میں مسئلہ کیا ہے؟
جواب
ابھی شادی نہیں کی تو بچوں کی ضروریات پوری کرنیکا کیا سوال ہے، اگر اس شخص کی حالت شہوت کے اعتبار سے اعتدال پر ہے اور اسکی اتنی قدرت ہیکہ شادی کر کے بیوی کا نفقہ واجبہ ادا کر سکے تو اس کو نکاح کرنا سنت ہے اور جب والدین کا اصرار ہے اور نکاح نہ کرنے کی وجہ سے ناراض ہیں تو اس کا نکاح کرنا اور بھی مؤکد ہو جاتا ہے۔ دوسرے دینی کاموں وغیرہ کی وجہ سے اس کو ترک نہ کرے
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔