الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح کی تعریف اور غرض اور اس کا طریقہ

سوال

(۱) نکاح کس کو کہتے ہیں اور اس کی کیا غرضیں ہیں اور کیا غایت ہے؟ (۲) بنیاد نکاح کیا ہے؟ اور کیسے اور کس طرح ہو سکتا ہے۔ یعنی نکاح ہو جانے کا کیا حکم ہے؟ اس کی کیا صورت ہے؟ (۳) نکاح میں گواہ کی شرط ہے یا نہیں؟ اور گواہ کتنے شرط ہیں؟ کیا عورتوں کی گواہی سے بھی نکاح ہوسکتا ہے؟ (۴) نکاح میں عورت کے وکیل ہونے کی شرط ہے۔ ایک یا دو یا اس سے بھی زائد؟ (۵) نکاح میں قاضی یعنی نکاح پڑھانے والے کی شرط ہے یا نہیں؟ قاضی ایک یا دویا زائد ہو سکتے ہیں یا کبھی قاضی کی بھی ضرورت نہیں؟ (۶)

جواب

(۸/۷/۶/۵/۴/۳/۲/۱/) نکاح ایک عقد ہے جس کے ذریعہ مرد کو عورت سے حق جماع حاصل ہو جاتا ہے اور اس کے لوازمات مرتب ہوتے ہیں۔ عورت کے لئے مہر، نفقہ سکنی نیز اولاد ہونے پر ثبوت نسب وغیرہ۔ عورت اگر بالغہ ہو تو وہ خود بھی بغیر سر پرست کے اور بغیر کسی وکیل کے براہ راست عقد نکاح کر سکتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو