بلا وضو و طہارت کے نماز استسقاء
سوال
(۱) استسقاء کی نماز پڑھنے گئے تھے، وہاں زید نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ نماز پڑھو۔ جو لوگ بغیر طہارت اور بغیر وضو کے تھے، ان لوگوں نے انکار کیا اس پر زید نے کہا کہ کھڑے ہو جاؤ اللہ کے بندو! اللہ دل کا حال جانتا ہے اس کے بعد اس کے کہنے پر بغیر طہارت وضو کے نماز پڑھی۔ (۲) صلوۃ استسقاء کیلئے جب کہ پانی ایک فرلانگ پر موجود ہے، تو تیمم کرنا جائز ہے یا نہیں؟ (۳) ایک امام نامرد ہے اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
جواب
(۱) بغیر وضو اور بغیر طہارت کے نماز استسقاء بھی جائز نہیں گناہ ہے۔ (۲) اگر یہ اندیشہ ہے کہ وضو کر کے آکر نماز نہیں ملے گی تو تیمم کی اجازت ہے۔ (۳) درست ہے لیکن مرد افضل ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔